نئی دہلی،24نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا) راجیہ سبھا میں آج وزیر اعظم نریندر مودی خود چل کر اپوزیشن لیڈران کے پاس گئے اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے کافی دیر تک بات چیت کی۔ایوان بالا میں آج لنچ کی چھٹی کا اعلان ہونے کے بعد مودی اپوزیشن گیلریوں کے پاس گئے۔انہوں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس لیڈر کرن سنگھ، آنند شرما وغیرہ سے بات چیت کی۔ مودی منموہن کا کچھ دیر تک ہاتھ پکڑے رہے اور دونوں کو کسی بات پر ہنستے ہوئے دیکھا گیا۔ مودی نے اس سے پہلے جے ڈی یو لیڈر شرد یادو، ترنمول کانگریس کے سکھیند شیکھر، کانگریس کے سبی رامی ریڈی وغیرہ سے بھی بات چیت کی۔ انہوں نے بی ایس پی سربراہ کو ہاتھ جوڑ کر سلام کیا اور اور جواب میں مایاوتی نے بھی ہاتھ جوڑے لیکن دونوں کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔وزیر اعظم جب این سی پی لیڈر پرفل پٹیل اور ڈی ایم کے کی کنموئی سے بات کر رہے تھے، اسی وقت خاتون باکسر اور نامزد میریکم اور نامزد سبھاجی راؤ بھی وہاں پہنچے۔مودی میریکم اور سبھاجی راؤ کے ساتھ کافی جوش و خروش سے بات کرتے نظر آئے۔اس دوران انہوں نے سبھاجی کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔قابل ذکر ہے کہ ایوان بالا میں گزشتہ کئی دنوں سے نوٹ بندی کے معاملے پر ہو رہی بحث میں وزیر اعظم کی موجودگی کے مطالبے پر اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے تعطل بنا ہوا ہے،آج جمعرات ہونے کی وجہ سے سوال کے دوران وزیر اعظم کے تحت آنے والی وزارتوں سے متعلق زبانی سوال پوچھے جاتے ہیں،اسی لئے مودی آج ایوان بالا میں آئے تھے لیکن ایوان میں سوال کے بجائے ادھوری بحث کو آگے بڑھایا گیا اور وزیر اعظم ایک گھنٹے تک ایوان میں بحث سنتے رہے۔